15 جون 2009 - 19:30

یہ نورا کشتی مسلمانوں کے طویل تجربے کے ہوتے ہوئے کسی بھی مسلمان کو دھوکہ دینے میں کامیاب نہیں ہوسکتی.

روزنامۂ جنگ:امریکا ،برطانیہ اور فلسطین کی یہودی بستیوں کی ناجائز تعمیر کی مذمت  امریکا،برطانیہ اور فلسطین نے اسرائیل کی طرف سے مشرقی یروشلم میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کے اعلان کی سخت مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس اقدام سے خطے میں امن مزاکرات کی بحالی ممکن نہیں ہو سکے گی۔اسرائیل کی طرف سے یروشلم ڈسٹرکٹ پلاننگ کمیشن نے فلسطینی علاقے میں مزید 900 گھروں کی بستی تعمیر کرنے کا اعلان کیا اور منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لیے اس پر اعتراضات اور سفارشات طلب کی ہیں جس کے ردعمل میں فلسطین کے چیف مذاکرات کارصائب ارکات (عریقات) نے شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک اسرائیل مشرقی یروشلم میں یہودی بستیوں کی ناجائز تعمیر کے عمل کو روک نہیں دیتا اس کے ساتھ مذاکرات شروع نہیں ہو سکتے ہیں۔برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈنے بھی اس منصوبے کی مذمت کرتے ہوئے اسے یروشلم کو مشترکہ دارالحکومت کے طور پر استعمال کرنے کوششوں کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ دوسری طرف وہائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گیٹس نے بھی اس منصوبے کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے وقت میں جب ہم اسرائیل فلسطین مذاکرات کو دوبارہ شروع کرانے کی کوششیں کر رہے ہیں اسرائیل کی طرف فلسطینی علاقوں میں بستیوں کی تعمیر انتہائی قابل مذمت ہے۔  نیوز اردو ویب سائٹ:ناجائز یہودی بستیوں پر تنقید،اسرائیلی وزیراعظم کے قدم لڑکھڑا گئے  حیفہ ... ناجائز یہودی بستیوں پر امریکا اور برطانیہ کی طرف سے تنقید کے بعد اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو تنقید کے دباؤ میں لڑکھڑاہٹ کا شکار ہیں۔ اسرائیل ٹیلی وژن سے جاری ہونے والی ایک فوٹیج میں وزیر اعظم نیتن یاہو کو نیوی کے جنگی جہاز سے ریسکیو بوڑ میں اترتے ہوئے دکھایا گیا لیکن جہاز کی سیڑھیاں اترتے ہوئے وہ لڑکھڑائے اور کشی میں کھڑے ایک فوجی نے انہیں تھام لیا اور انہیں گرنے سے بچانے میں مشکل سے کامیاب ہو سکا۔ٹیلی وژن کے مطابق صیہونی وزیر اعظم نیوی کی معمول کی مشقوں کا جائزہ لینے حیفہ گئے تھے۔ 

ایران کی مہر نیوز ایجنسی:

امریکہ نے مقبوضہ فلسطینی میں مزید یہودی بستیوں کی تعمیر پر بظاہربرہمی کا اظہار کیا ہے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکہ نے مقبوضہ فلسطینی میں اسرائیل کی طرف سے مزید نو سو اضافی یہودی گھروں کی تعمیر کے اسرئیلی منصوبے پر برہمی ومایوسی کا اظہار کیا ہے۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبز کا کہنا ہے کہ اس اقدام نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن بات چیت کی بحالی کے کام کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔اس نے یہ بیان اسرائیلی وزارتِ داخلہ کی طرف سے ان نئے گھروں کی تعمیر کی درخواستوں کی منظوری کےبعد جاری کیا۔بین الاقوامی قانون کے تحت مقبوضہ زمینوں پر بستیوں کی تعمیر غیر قانونی سمجھی جاری ہے۔ تاہم اسرائیل اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اسرائیل واحد ملک ہے جو بین الاقوامی قوانین کو پامال کرتا ہے اور اسے اس سلسلے میں امریکہ کی مکمل پشتپناہی حاصل ہے۔ امریکہ کبھی کبھار دنیا کو دکھانے کے لئے اسراغیل کے بعض غیر قانونی اقدامت پر مایوسی کا اظہار کرلیتا ہے لیککن حقیقت میں اسرائیل کے تمام غیر قانونی اقدامات کو امریکہ کی مکمل حمایت رہتی ہے۔ابنا:

یہ سب دھوکہ ہےاسرائیل امریکہ کا غیر متحرک جنگی بحری جہاز ہے جس کو ایندھن کی فراہمی کی ذمہ داری امریکہ اور یورپ پر عائد ہوتی ہے اور اگر وہ ایندھن فراہم نہ کریں تو یہ جہاز ناکارہ ہوجائے گا اور اس جہاز کے ملاح وغیرہ اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر کوئی بھی موقف اختیار نہیں کرسکتے چنانچہ مغرب اور صہیونیت کی یہ نورا کشتی مسلمانوں کے طویل تجربے کے ہوتے ہوئے کسی بھی مسلمان کو دھوکہ دینے میں کامیاب نہیں ہوسکتی.